islam and terreism اسلام کے خلاف انتہاءپسندی کی آگ
اسلام کے خلاف انتہاءپسندی کی آگ
جمعہ, 24 ستمبر 2010 17:43 ن ع
اہلِ مغرب جدیدیت کے مہلک نتائج رونما ہونے تک مختلف لادین فلسفوں میں منتشر رہے۔ انیسویں صدی کے اواخر تک امریکہ و یورپ میں لوگ سائنس اور فلسفہ کی تباہ کاریوں سے دل برداشتہ ہوکر مذہبی بنیادوں کی جانب ایک بار پھر مائل ہوئے۔ یہ وہ دور تھا جب عیسائی اور لبرل طبقات میں شدید نظریاتی کشمکش کا آغاز ہوا۔ امریکہ و یورپ کی معیشت پر قابض صہیونی منصوبہ ساز دونوں طبقات کی علمی و عملی پیشرفت کا مشاہدہ کررہے تھے اور مستقبل کی ترجیحات طے کررہے تھے۔ امریکہ میں جان ڈربی پروٹسٹنٹ عیسائیوں کی نظریاتی تربیت پر مامور تھا، یہ شخص صہیونی سرمایہ کاروں کا آلہ کار تھا، اس نے عبرانی یعنی یہودی روایات میں لپٹی عیسائیت کی تعلیمات عام کیں، عیسائیت کی رائج تعلیمات میں یہودی عقائد کی پیوندکاری کی، قدامت پرست عیسائی بنیاد پرستی کا نظریہ تخلیق کیا گیا۔ جان ڈربی کے پیروکار نظریہہزاریہ Millenarianism (حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دوبارہ آمد کا ہزاریہ، حق وباطل کی فیصلہ کن جنگ، اور دنیا کے اختتام پر یقین) پر ایمان لائے اورامریکہ کے سیکولر نظام کو چیلنج کرنے لگے۔ بنیاد پرستی (Fundamentalism) کیاصطلاح قدامت پرست پروٹسٹنٹ عیسائیوں ہی کی اختراع تھی۔ یہ بنیاد پرست حضرتعیسیٰ علیہالسلام کی آمد سے پہلے سیکولر جدیدیت کی جڑیں اکھاڑ کر صہیونیت زدہ عیسائیتعلیمات کی ترویج کا عزم کرچکے تھے۔ جبکہ دیگر عیسائی فرقے اس دوران بھیجدیدیت کی اقدار سے مرعوب اور ریاست اور مذہب کی علیحدگی کے قائل رہے۔Evangelismیعنی عیسائیت کا پوری دنیا میںبزور طاقت نفاذ بھی اسی تعلیمی سلسلے کی کڑی تھی۔ تاہم ابھی عیسائیت کا یہصہیونی ورژن ابتدائی مراحل سے گزر رہا تھا۔ سب سے پہلے Millenarianism یعنیحضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ِثانیہ کا عقیدہ ذہنوں میں بٹھایا گیا، پھر Presbyterians یعنیسیاسی نظام میں چرچ کے کردار کو ازسرنو زندہ کیا گیا، اور بتدریج صہیونیعزائم میں لپٹے Evangelism کی سیاسی برتری و حکمرانی امریکہ و یورپ میں رائج ہوئی۔ جان ڈربیکے شاگرد ڈوائٹ موڈی نے 1886ءمیں سیکولر نظریات کامقابلہ کرنے کے لیے شکاگو میںMoody Bible Instituteکی بنیاد رکھی، جس کے بعد پورےامریکہ میں صہیونی سرمایہ کاروں کے تعاون سے قدامت پرست پروٹسٹنٹ فرقہ کےاداروں کا جال بچھ گیا۔ ڈوائٹ موڈی کو امریکہ میں بنیاد پرستی کا بانیسمجھا جاتا ہے۔ ابتدا میں پروٹسٹنٹ ادارے Presbyterians (وہ عیسائی جو چرچ کی حکومت پر یقینرکھتے ہیں) اور Premilenarianists (نئے ہزاریے سے قبل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے منتظرعیسائی) تک محدود رہے۔ درحقیقت عام مذہبی شخص کے لیے سیکولر دنیا میں یہعیسائی شناخت کھوجنے کی کاوش تھی۔ 1908ءمیں لاس اینجلس میں بائبل کالج کاقیام عمل میں آیا۔ آئندہ چند برسوں میں قدامت پرستوں نےThe Fundamentalsکے عنوان سے 30لاکھ کتابچے پورےامریکہ کے بااثر طبقے میں مفت تقسیم کیے۔ اس کتابچہ میںعیسائیت کی مسخ شدہ رائج تعلیمات کا پرچارکیا گیا اور انجیل کے ازسرنومطالعے پر زور دیا گیا۔ دوسری جانب جان ڈربی کا ایک اور شاگرد اور جرائمپیشہ پروٹسٹنٹ عیسائی سائرس اسکوفیلڈ منظر پر ابھرا۔ یہ شخص صہیونی سرمایہکاروں اور اشرافیہ کے لوٹس کلب کا رکن تھا۔ سائرس نے صہیونی معاونین کیاعانت سے عیسائی مبلغ کا لائسنس حاصل کیا۔ صہیونیوں کے ہاتھ ایک مجرمانہذہنیت وکردار کا شرانگیزگماشتہ لگ گیا تھا۔ یہ شخص عیسائی رائج تعلیمات میںعبرانی روایات و حوالہ جات کی مسلمہ و مستند حیثیت مستحکم کرنے میں کامیابہوا۔1895 ءتک سائرس ڈوائٹ موڈی چرچ کا پادریبن چکا تھا۔ سائرس اسکوفیلڈ اور صہیونی ساتھیوں نے انجیل میں عبرانی حوالہجات سرایت کرنے کا منصوبہ تشکیل دیا۔ لوٹس کلب کے صہیونی ارکان سیموئیلگومپرز، ابراہم اسٹراس، برنرڈ باروخ، اور جیکب شیف نے Scofield Bible Reference Book کی تشکیل و اشاعت کے لیے ایک ایک ڈالر اپنی جیب سے ادا کیا۔عیسائی مذہب کی مقدس کتاب کی اشاعت کے لیے صہیونیوں کی سرمایہ کاری کا کیاجواز تھا؟ اس سوال کے جواب میں حالیہ انتہا پسند عیسائیت کے اسباب پوشیدہہیں۔ اسکوفیلڈ بائبل میںعبرانی حوالہ جات کی بھرمار نے صہیونی عیسائیت کی تخلیق شروع کردی جس نےبتدریج پوری عیسائی برادری کو انتہا پسندی کی آگ میں دھکیل دیا۔ سرکاری طورپر پورے امریکہ کے تمام تعلیمی اداروں میں اسکوفیلڈ بائبل حوالہ جات کومعیاری سند کے طور پر متعارف کروایا گیا۔ یہان تک کہ قدامت پرست پروٹسٹنٹاداروں سے ایک انتہا پسند عیسائی نسل تیار ہوئی اور صہیونیت زدہ عیسائیت کانظریہ جڑ پکڑگیا۔ اس سے قبل عبرانی حوالہ جات کی قطعی سرکاری و معیاری سندمتعین نہیں تھی۔ عیسائیت کا یہ صہیونی ورژن امریکہ کے سیاسی و معاشرتینظام میں مستحکم ہوتا چلا گیا، یہاں تک کہسیاست، معاشرت، اور معیشت کے بعد عیسائی مذہب بھی صہیونیوں کی مکمل گرفتمیں آگیا۔ عبرانی یعنی اسرائیلی حوالہ جات میں Rapture یعنی عیسائی نجات کا گمراہ کن تصورپیش کیا گیا ہے جس کے مطابق عیسائیوں کی نجات صرف ارضِ اسرائیل کےتحفظمیں مضمر ہے۔ درحقیقت صہیونیوں نے anti-christ دجال کی آمد کو عیسائیوں کے سامنےخوشنما بناکر حضرت عیسیٰ علیہالسلام Christکی آمد ِ ثانیہ سے تشبیہ دی ہے۔ ان ہی گمراہ کن اور احمقانہیہودی حوالہ جات نے عیسائی تعلیمات کا بیڑہ غرق کردیا ہے۔ عیسائی مکمل طورپر صہیونی تعلیمات پر ایمان لے آئے ہیں۔ امریکہ میں ایوینجلسٹوں کی سیاسیحکمرانی نے صہیونیوں کے عزائم کو تقویت دی ہے ،تاہم ایک رکاوٹ ابھی باقیہے، یعنی اسلام۔ اسلام کی رکاوٹ دور کرنے کے لیے صہیونیوں نے گزشتہ کئیدہائیوں میں انتہاپسند عیسائیوں کی ایک ایسی سیاسی و نظریاتی نسل تیار کیہے جو اسلام پرمسلسل یلغار کررہی ہے۔ دہشت گردی یعنی اسلام کے خلاف جنگ اس ضمن میں سب سےاہم عسکری پیش رفت ہے۔ اس کے علاوہ معاشرتی، نفسیاتی، معاشی اور تبلیغیحملے بھی تواتر سے جاری ہیں۔ مغربی ذرائع ابلاغ، نیٹو، ورلڈ بینک، آئی ایمایف، اقوام متحدہ، اور این جی اوز اس سلسلے میں اہم معاونین ہیں۔ اسلامیممالک کے ناجائز و نااہل حکمران صف ِاوّل کے صہیونی آلہ کار ہیں۔ امریکیسیاست میں جارج بش، ڈونلڈ رمزفیلڈ، ڈک چینی اور اب سارہ پالن، جان مک کین،اور بارک اوباما صہیونی مہروں کا کام انجام دے رہے ہیں۔ اسلام کے خلافانتہا پسندی کی آگ وائٹ ہاوس سے ٹین ڈاءنگاسٹریٹ تک جھلسا دینے والی منافرت کی طرح پھیل چکی ہے۔ اسلامی تہذیب سےدرپیش یقینی خطرہ صہیونیوں کی نیندیں حرام کرچکا ہے، اسلامی تہذیب کو کچلنےکے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جارہا ہے۔ پوری نیٹو اٹھاکر لایعنی جنگ میںجھونک دی گئی ہے۔ اسلام کے خلاف اشتعال انگیزی انتہائی پستی میں اتر چکیہے۔ کہیں اسلام کے مینارے کھٹک رہے ہیں، کہیں پردہ مساوات کے جھوٹے دعووںکو بے پردہ کررہا ہے۔ قرآن حکیم کی بے حرمتی کرکے اپنے تئیں اللہ کو عاجزکرنے کی احمقانہ اور جاہلانہ کوشش کی جارہی ہے۔ امریکہ میں تو اسلام کی بیخکنی کی خاطر صہیونیوں نے خود ہی کروڑوںڈالر کی مسجد کی تعمیر کا پروپیگنڈا ترتیب دیا اور خود ہی مسجد کی مخالفتکا ڈراما رچا کر مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان عالمی خونریز تصادم کیراہ بھی ہموار کی۔ ہالینڈ کا وزیر گیرٹ ولڈر اسلام مخالف ہیرو کے طور پرداد وصول کرنے امریکہ پہنچ جاتا ہے، پوپ بینی ڈکٹ شانِ رسالت کی توہین کرکےصہیونیوں سے تھپکیاں وصول کرتا ہے، بلیک واٹر کا ایرک پرنس کرائے کی صلیبیفوج تیار کرکے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی خدمت بجالاتا ہے، پادری ٹوریجونز صہیونیوں کے اشاروں پر شرانگیز اعلانات کرتا ہے۔ یہ تمام رویّےعیسائیت میں صہیونیت زدہ تعلیمات کی شیطانیپیوند کاری کا نتیجہ ہیں۔ عیسائی تہذیب صہیونی آلہ کار بن چکی ہے، تاہمکیتھولک اور عام لادین طبقہ اب بھی انتہا پسندی کی صہیونی لہر سے کسی حد تکمحفوظ ہے، اور یہی طبقہ مسلمانوں کے لیے معاون ثابت ہوسکتا ہے۔ صہیونیت کےنظریاتی اور انتہاپسند ورژن سے محفوط عیسائی، سوشلسٹ اور لادین افراد تکاسلام کی سچائی پہنچانا مسلمانوں کی اہم ترجیح ہونی چاہیے۔ مسلمان اگرمعذرت خواہانہ طرزعمل ترک کرکے بلا اشتعال حق گوئی کا مظاہرہ کریں توصہیونیت کے انتہاپسند طوفان کا رخ موڑا جاسکتا ہے
No comments:
Post a Comment