ایک مرتبہ پھر نائن الیون یوم ستمگر پر ایک نئی کہانی لے کر آیا ہے۔ ہر سال یوم ستمگر پر اسلامی تہذیب کے خلاف ذہن سازی کے لیے طاغوت کو نائن الیون واقعہ کی ایک نئی ڈرامائی کہانی کی ضرورت پڑتی ہے۔ اِس مرتبہ خاص طور پرایسا ڈراما تیارکیا گیا ہے جس کی اقساط آئندہ کئی سال جاری رہنے کا خدشہ ہے۔ ڈرامے کے ہدایت کار و سرمایہ کار حسب روایت صہیونی گماشتے ہیں۔ ڈرامے کے اداکاروں میں صدر اوباما سمیت نام نہاد بائیں اور دائیں بازو کے بہت سے امریکی سیاست دان شامل ہیں۔ سارہ پالن گلیمر اور انتہاپسندی کا انوکھا امتزاج ہونے کی وجہ سے خصوصی اہمیت کی حامل ہیں، عوام ہمیشہ کی طرح نادانستہ طور پر ملوث ہیں۔ ڈرامے کا نام ”گراونڈ زیرو مسجد“ رکھا گیا ہے۔ یہ نام تہذیبوں کے تصادم میں ایک نئی اختراع شدہ اصطلاح ہے۔ گراونڈ زیرو مسجد کا عنوان سنتے ہی ذہن میں تین چیزیں ابھرتی ہیں: واقعہ نائن الیون، اسلام، اور دہشت گردی۔ ڈرامے کا مرکزی خیال ”دہشت گرد اسلام“ ہے۔ ڈرامے کا مقصد امریکہ میں اچھے مسلمان (یعنی صہیونی ایجنڈے پرچلنے والے) اور برے مسلمان (راسخ العقیدہ) کے درمیان خیلج قائم کرکے برے مسلمان کا نظریاتی، نفسیاتی، سیاسی اور معاشرتی استحصال اورامریکہ میں اسلام کے خلاف نفرت کی بھٹی کو ایندھن فراہم کرنا ہے۔ اس کا مقصد اس سچائی کودھندلانا بھی ہے کہ نائن الیون حملہ امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر اسلام کے خلاف دہشت زدہ اشتعال تخلیق کرنے کے لیے ترتیب دیا تھا۔ ڈرامے کا اسٹیج گراونڈ زیرو سے دو بلاک کے فاصلے پر تیار کیا گیا ہے جہاں مسلم ثقافتی مرکز قرطبہ ہاوس (یہ پورا کمیونٹی سینٹر ہوگا جس میں سوئمنگ پول، ریسٹورنٹ، باسکٹ بال کورٹ، لائبریری وغیرہ ہوں گی، مسجد محض ایک ملحقہ حصہ ہوگی) کی تعمیرکا آغازکیا جائے گا اور پھرگیارہ ستمبرکی آمد تک مسجد (قرطبہ ہاوس کے بجائے گراونڈ زیرو مسجد کی اصطلاح کا استعمال اشتعال انگیزی کے لیے موثر ہے) کی تعمیرکا تنازع پیدا کیا جائے گا۔ مقصد یہ ہے کہ ایک گروہ مسجد کی تعمیرکے حق میں تیار کیا جائے اوردوسرا مخالفت میں۔ اس طرح گیارہ ستمبر تک واقعہ نائن الیون، اسلام، مسلمان، مسجد، اور دہشت گردی کا مرکب بہرصورت ذہنوں پرنقش ہوجائے۔ ڈرامے کے کرداروں اور اب تک کی اداکاری کا جائزہ لے کر مضمون سمیٹتے ہیں۔ گراونڈ زیرو سے دو بلاک کے فاصلے پر قرطبہ ہاوس کی تعمیر کا بیڑہ سب سے پہلے ”امام“ فیصل عبدالروف نےCordoba Initiativeکے عنوان سےاٹھایا۔ موصوف امریکہ کی کاونسل برائے خارجہ امورکی مذہبی مشاورتی کمیٹی کےرکن ہیں۔ فیصل عبدالروف کو قرطبہ ہاوس کی تعمیر کے لیے صہیونی طبقے کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ اسسلسلے میں American Society for Muslim Advancement(ASMA) بھرپورتعاون کررہی ہے۔ عبدالروف صاحب ASMA کے بھی مرکزی رکن ہیں۔ غرض ASMAکے تعاون سے دس کروڑ ڈالرکی لاگت سےگراونڈزیرو سے دو بلاک کے فاصلے پر جگہ خریدی گئی (واضح رہے زیرتعمیر سینٹر نہتو مسجد ہے اور نہ ہی گراونڈ زیرو پر ہے) جس کے بعد حمایت یافتہ گروہ کاکام شروع ہوگیا۔ امریکہ کے صدر بارک اوباما نے ”گراونڈ زیرومسجد“ کی تعمیرکی حمایت کردی۔ سی این این کے میزبان اور نیوزویک کے ایڈیٹر فرید زکریا نےبھی مسجد کی تعمیرکے حق میں ووٹ دے دیا۔ غرض مسجد کی تعمیر کا حمایت یافتہطبقہ بالکل نمایاں ہوگیا۔ امریکہ کی کاونسل برائے خارجہ امور دنیا بھر میں امریکی مفادات کی فکری مبلغہے، یعنی تہذیبوں کے تصادم میں اسلام کے خلاف سرگرم ہے۔ لہٰذا مسٹر عبدالروف بھی گماشتے ہیں۔ ASMAکی تنظیم Rockefeller Brothers, Rockfeller Philanthropy, Carnegie Corporation اورRockefeller Brothers Fund اورچند ”اچھےوالے“ مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ یہ سب صہیونی خاندانوں کے ادارے ہیں۔ بلاشبہان کی جانب سے قرطبہ ہاوس کی تعمیر کے لیے فنڈنگ کا محرک اسلام دشمنی ہے۔ بالخصوص راکفیلر صہیونی خاندان کی انسان اور اسلام دشمنی کی ایک باقاعدہ تاریخ ہے۔صدربارک اوباما اور فرید زکریا کی اسلام دشمنی بھی کسی تعارف و تفصیل کیمحتاج نہیں ہے۔ چنانچہ یہ تو ثابت ہوا کہ قرطبہ ہاوس کی تعمیر مسجد ِضرارکیمثل ہے جہاں ”اچھے والے“ مسلمانوں کی تعلیمات کی ترویج کا انتظام کیا جائےگا۔ قرطبہ ہاوس کے حامیوں میں امریکہ کے وزیر برائے نیشن آف اسلام لوئیسفراخان بھی شامل ہیں۔ فراخان کی ’نیشن آف اسلام‘ امریکہ میں افریقی سیاہفام نسلکا اختراع کردہ مذہب ہے، اس مذہب کے عقائد گمراہ کن ہیں۔ نیشن آف اسلام کیتفصیلات انٹرنیٹ پردستیاب ہیں۔ لوئیس فراخان اور نیشن آف اسلام کے پیروکارصہیونیت کو مطلوب ”اچھے والے“ مسلمان مہیا کرنے کے لیے مددگار ثابت ہوسکتےہیں۔ لوئیس فراخان نے قرطبہ ہاوس کی تعمیرکی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہنائن الیون حملے میں تمام مذاہب کے افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ موصوف نے بیان میںخود کونائن الیون حملے میں شہید ہونے والے مسلمانوں کا نمائندہ ظاہر کرنےکی کوشش کی ہے۔ آئیے اب مسجد کی تعمیر کے مخالفین پرایک نظر ڈالتے ہیں۔میڈیا سروے کے مطابق امریکہ کے ستّرفیصد عوام مسجد کی تعمیرکے خلاف ہیں۔ اس کی تین بنیادی وجوہات ہیں: اوّل،میڈیا نے عوام کو یقین دلایا ہے کہ مسجد گراونڈ زیرو پر تعمیر ہورہی ہےجبکہ زیرتعمیر emart گراونڈ زیرو سےدو بلاک کے فاصلے پر ہے۔ دوم، میڈیا نے عوام کوگمراہ کیا ہے کہ مسجد تعمیرہورہی ہے جبکہ یہ کمیونٹی سینٹر ہے جس کا ایک حصہ نمازیوں کے لیے مختص ہے۔سوم، میڈیا نے عوام سے کہا ہے کہ مسجد کی فنڈنگ انتہا پسند مسلمان اورایران کررہا ہے جبکہ قرطبہ ہاوس کی فنڈنگ صہیونی اداروں نے کیہے۔ نتیجتاً عوام ہمیشہ کی طرح گمراہ ہیں۔ ایک سروے کے مطابق ساٹھ فیصدامریکی عوام نے میڈیا رپورٹس پر انحصار کرکے مسجد کے خلاف رائے قائم کی ہے۔بالکل اسی طرح ہر پانچ میں سے ایک امریکی صدراوباما کو مسلمان سمجھتا ہے،یعنی امریکی قوم بے خبر ہجوم ہے، یہ ہجوم اہل الرائے نہیںہوسکتا۔ کارپوریٹمیڈیا تواتر سے امریکہ میں اسلامو فوبیا کی فضا ہموار کررہا ہے۔ نام نہاددائیں بازوکی جماعت ری پبلکن کے ارکان بھی میڈیا کے شانہ بشانہ اسلام مخالفہیجان خیز ماحول کی افزائش میں مصروف ہیں۔ ری پبلکن کی قیادت میں مسجد کیتعمیر کے خلاف جلوس نکالے جارہے ہیں۔ایسے ہی ایک جلوس نے قرطبہ ہاوس کی تعمیر میں ملوث سیاہ فام کارپینٹرکیپٹائی بھی کی ہے۔ اسی طرح نیویارک میں مسلمان ٹیکسی ڈرائیور احمد شریف پرحملہ ہوا اور مختلف مساجد اور سینٹرز میں تخریب کاری کی کوششیں کی گئیں۔ایک جانب نیوٹ گنگریچ اور سارہ پالن جیسے دائیں بازو کے سیاستدان قومی فضاخراب کررہے ہیں، اور دوسری جانب پامیلا گیلر اور رابرٹ اسپنسر جیسےبلاگرزآن لائن افراد کوگمراہ کررہے ہیں۔ گنگریچ نے توگیارہ ستمبر کو مسجدکی تعمیر کے خلاف باقاعدہ ریلی نکالنے کا اعلان کیا ہے۔ غرض گراونڈ زیرو سےدو بلاک کے فاصلے پر سجے اسٹیج پر یہ فنکارصہیونی اسکرپٹ پر فن کا مظاہرہ کررہے ہیں اور مسلمان بے بس تماشائیوں کیطرح یہ شیطانی تماشا دیکھ رہے ہیں۔ درحقیقت یہ ساری صورت حال ’برے والے‘ مسلمانوں کے خلاف نفسیاتی آپریشن بھی ہے۔ اس آپریشن کا مقصد ’اچھے والے‘ مسلمانوں کو’برے والوں‘ پر سبقت کی سہولت فراہم کرنا ہے۔ غیر مسلموں میںاسلام کی دہشت اور خوف کی افزائش نائن الیون واقعہ کی تازگی برقرار رکھنےکے لیے ناگزیر ہے۔ یہ تاثر زندہ رکھنا ہے کہ امریکہ ہر وقت مسلمان دہشتگردوں کے حملوں کی زد میں ہے۔ قرطبہ ہاوس کی تکمیل اسلامی تہذیب کے خلافمحاذ کا ایک نیا پلیٹ فارم ثابت ہوگی۔ اس پرجہالت بالائے حماقت یہ ہے کہ چرچ آف فلوریڈا نے گیارہ ستمبر کو قرآن حکیمکی بے حرمتی کا عزم کیا ہے، مقصد محض اشتعال انگیزی کے ذریعہ دہشت گرد جنگکو ایندھن فراہم کرنا ہے۔ امریکہ میں مقیم راسخ العقیدہ مسلمانوں کی راہیںدن بہ دن مسدود کی جارہی ہیں۔ لہٰذا امریکہ میں مقیم مسلمان قرطبہ ہاوس سےمکمل طور پر لاتعلقی کا اجتماعی اعلان کریں اور سرکاری یا میڈیا کی سطح پرچھیڑے گئے اشتعال انگیز تہذیبی مباحث سے گریز کریں، اور اپنا موقف بضرورتازخود پیش کریں۔ مسلمانوں کے لیے حالیہ منظرنامے میں صبر و استقامت کی حکمتعملی ہی موثر ترین ہے۔ اس صورت حال میں حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ بلا اشتعالعلمی و عملی پیشرفت کی جائے۔ اسلامی تہذیب پر حملے امریکہ تک محدود نہیںہیں، اس کا دائرہ تمام صہیونی زیراثر علاقوں میں پھیل رہا ہے۔ دونوں مشرقوںاور دونوں مغربوں میں ہر مسلمان کے لیے بہترین حکمت عملی ایمانِ محکم، نیکعمل، حق کی تلقین، اور صبر کی تاکید ہے۔
No comments:
Post a Comment